Posts

Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

سورۃ البقرۃ:آیات 21 تا 30

سورۃ البقرۃ:آیات 21 تا 30  سورۃ البقرۃ:آیات 21 تا 30 يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (21) اے لوگو عباد ت کرو اپنے رب کی جس نے ےتمہیں پیدا کیا ہے اور ان کو بھی جو تم سے پہلے گزرے ہیں، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (22) وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا (تاکہ تم اس پر رہ سکو)    اور آسمان کو چھت بنایا    (جو تمہیں اجرام سماوی سے محفوظ رکھتی ہے)، اور آسمان کی جانب سے پانی برسایا    جس کے ذریعے اس نے پھلوں کو تمہارا رزق بنایا۔ پس تم اللہ کے ساتھ کسی کو اس کا شریک مت ٹھہراؤ، جبکہ تم جانتے ہو( کہ وہ اکیلا ہی تمام کا ئنات کا رب ہے) وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إ...

سورۃ البقرۃ :آیات 1 تا 10

سورۃ البقرۃ :آیات 1 تا 10  سورۃ البقرۃ: آیات 1 تا 10 الم (1) ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (2) الف لام میم۔    اس( قرآن) کے کتاب الٰہی ہونے میں ذرا بھی شک نہیں، اس میں اہلِ تقویٰ کے لیے ہر قسم    کی ہدایت موجود ہے۔ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (3) جو کہ بن دیکھے ایمان لاتے ہیں اور (اوقات و آداب کا لحاظ کرتے ہوئے) نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (4) جو اس (وحی)پر بھی یقین رکھتے ہیں جو (اے نبی ﷺ) آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور اس (وحی) پر بھی یقین رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے (انبیا پر) نازل کی گئی تھی۔اور وہ آخرت (میں مرنے کے بعد زندہ کیے جانے اور حساب)    پر یقین رکھتے ہیں۔ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ(5) یہی لوگ اپنے رب کی جانب سے راہ ہدایت پر گ...

سورۃ الفاتحۃ

سورۃ الفاتحۃ ہر پنجگانہ نما ز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض ہے۔ سورۃ الفاتحۃ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ اللہ (خدائے برگ و برتر) کے نام سے ابتدا کرتا ہوں جو انتہائی مہربان اور    ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تمام    (قسم کے عیوب سے پاک) تعریفوں اور شکر کا حقدار صرف اللہ ہے جو تمام جہانوں کا رب    (خالق، مالک اور رازق)ہے۔ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وہ انتہائی مہربان اور ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ جو حساب کے روز (اکیلا )مالک و مختار ہوگا۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی (اس عبادت پر) مدد مانگتے ہیں۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم ہمیں (دین اسلام کے )    سیدھے راستے پر چلنےکی توفیق اور ثابت قدمی عطا فرما۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ یعنی ان لوگوں کے راستے پر جن پر    تونے انعامات کی بارش کی،    نہ کہ ان(یہود) کے راستے پرجن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان (ع...

نماز اطمینان سے ادا کرنا فرض ہے

Image
نماز اطمینان سے ادا کرنا فرض ہے نماز اطمینان سے ادا کرنا فرض ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ [1] اور صلوٰۃ کی حفاظت کرو خاص طور پر صلوٰۃِ وسطیٰ کی۔اور اللہ کے سامنے عاجزی سے قیام کیا کرو۔ نماز کی حفاظت میں داخل ہے کہ نماز کے مقررہ اوقات میں    اہتمام کے ساتھ نماز کے تمام ارکان پورے اطمینان کے ساتھ ادا کیے جائیں اور اس پر ہمیشگی اختیار کی جائے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں    کہ میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور میں نے اپنے آپ سے یہ عہد کیا ہے کہ جو کوئی ان نمازوں کو وقت پر ادا کرتا رہے گا    میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو ان کی حفاظت نہیں کرے گا میرا ان سے کوئی وعدہ نہیں ہے۔ [2]   سیدنا رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا، نماز سےفارغ ہونے کے بعد نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کہ جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو تم ...

اصولِ فقہ

اصولِ فقہ اصولِ فقہ  از قلم ساجد محمود انصاری شریعتِ اسلامی کے تمام احکام کی  اصل بنیاد قرآن  و سنت کے دلائل و براہین اور آل محمد صلوات اللہ علیہم کے پاکیزہ فرامین ہیں۔ فقہ ہاشمی کی بنیاد انہی تین اصولوں پر قائم ہے۔ یہ دلائل و براہین امت پر حجت قائم کرتے ہیں۔ یہ دلائل بنیادی طور پر  دو قسم کے ہیں یعنی قطعی اور ظنی۔دلیل قطعی کو حجتِ قطعیہ اور دلیل ظنی کو حجتِ ظنیہ کہتے ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ حجتِ قطعیہ اور حجتِ ظنیہ میں کیا فرق ہے اور اسے کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے؟ اہل اصول کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حجت صرف ایسی روایت ہوسکتی ہے جسے ہر طبقہ میں عادل راوی روایت کرے اگرچہ اس کے حافظے میں ضعف ہی ہو۔ حجتِ قطعیہ قرآن حکیم بالاتفاقِ امت اعلیٰ ترین حجتِ قطعیہ ہے، جس کے مقابلے میں کسی بھی شے کو فوقیت نہیں دی جاسکتی، اس کا  ظاہری سبب یہ ہے کہ قرآن حکیم کو رسول اکرم ﷺ سے سینکڑوں عادل راویوں نے براہِ راست نقل کیا ہے ۔ نیز نبیﷺ نے اپنے سامنے مکمل قرآن حکیم تحریر کردیا تھا، جس کی نقول ہر دور میں وقت کے صالح ترین لوگوں کے پاس محفوظ رہی ہیں۔ لہٰذا قرآن حکیم کی قطعیت کے بارے میں ...

نماز با جماعت کی شرعی حیثیت

Image
 نماز با جماعت کی شرعی حیثیت  نماز با جماعت کی شرعی حیثیت از قلم ساجد محمود انصاری نماز با جماعت فرض کفایہ ہے،امام مالکؒ، امام شافعی ؒ اور امام ابو حنیفہ    ؒ کا یہی مؤقف ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ  تعالیٰ کا راجح مسلک یہ ہے کہ نماز باجماعت  ہر بالغ، تندرست ،مقیم ،  آزاد  اور غیر خائف مرد پر فرض ہے۔ خواہ جماعت مسجد میں کرائی جائے یا کسی دوسری جگہ پر۔تاہم جماعت میں شرکت  صحتِ نماز کے لیے شرط نہیں ہے۔ [1]   ارشادِ باری تعالیٰ ہے وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ  [2] نیز فرمایا وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ، فَلْتَقُمْ طَآءِفَۃٌ مِّنْھُمْ مَّعَکَ  [3] اور جب آپ    ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے صلوٰۃ قائم کیجیے، پس ان کا ایک فریق آپکے ساتھ کھڑا ہوجائے۔ ان آیات سے نماز باجماعت کی فرضیت ظاہر ہوتی ہے تاہم سنتِ متواترہ سے ثابت ہے کہ یہ فرضیت    مقید ہے ناں کہ مطلق۔یعنی اگر مسجد کے قرب و جوار    میں بسنے والے مرد مسجد میں جماعت کا اہتم...

Categories of Topics

Show more