Posts

Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معیارِ ایمان

Image
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معیارِ ایمان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معیارِ ایمان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معیارِ ایمان تمہید ایمان محض زبانی اقرار یا چند ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کے فکر، کردار، ترجیحات اور طرزِ زندگی کو مکمل طور پر بدل دیتی ہے۔ قرآنِ مجید نے ایمان کو ایک زندہ، متحرک اور اخلاقی قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسی تناظر میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو امتِ مسلمہ کے لیے معیارِ ایمان قرار دیا گیا، کیونکہ انہوں نے ایمان کو صرف قبول ہی نہیں کیا بلکہ اسے اپنی فطرت، خواہشات اور عملی زندگی کا محور بنا لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور معیارِ ایمان سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰـكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ “اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہم ویسا ایمان لائیں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ سن لو! دراصل یہی لوگ بے وقوف ہیں مگر جانتے نہیں۔ یہاں “الناس” سے مراد جمہور مفسرین...

Categories of Topics

Show more